ممبئی 7؍اکتوبر (ایس او نیوز) آج 6 ماہ بعد ممبئی میں عبادت گاہیں دوبارہ کھل گئیں اور عبادت گاہوں میں رونق دوبارہ لوٹ آئی۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں دوبارہ لاک ڈاؤن لگائے جانے کے سبب اتنے طویل عرصے سے عبادت گاہوں میں حاضری کےلئے حکومت نے پابندی عائد کررکھی تھی۔
آج7؍اکتوبرسے شہر کی تمام مساجد سمیت عبادتگاہوں کو 50 فیصد گنجائش کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لئے ۷؍ نکاتی ہدایت نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ اس اجازت کے بعد سے ہی عام مصلیان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ یہ محسوس کررہےہیں کہ اب وہ بلا روک ٹوک اورکسی قسم کی پابندی کے بغیر اللہ کے مقدس گھر کو آباد کرسکیں گے اور مساجد کے دروازوں پر فرشتے ان کا والہانہ استقبال کریں گے۔دوبارہ لاک ڈاؤن میں 26جمعہ اس طرح گزرے کہ بندگان خدا نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی محروم رہے ، حالانکہ ان کی خواہش اورکوشش تھی کہ وہ مسجد میں حاضری دے کر اپنے خالق کی کبریائی بیان کریں لیکن حکومت کی سختی مانع رہی ۔
ممبئی کے معروف اُردو روزنامہ انقلاب کی رپورٹ کے مطابق شہر اورمضافات میں مساجد میں مصلیان کے استقبال اورکورونا گائیڈ لائن پرعمل آوری کی ٹرسٹیان کی جانب سے بھی کوشش کی جارہی ہے۔صاف صفائی کےساتھ سینی ٹائزیشن ، سماجی فاصلہ قائم رکھنے اورماسک کے انتظامات کئے جارہے ہیں تاکہ عبادت کے لئے آنے والوں کو کسی قسم کی دقت نہ ہو اوروہ یکسوئی کے ساتھ عبادت کرسکیں۔اسی طرح حاجی علی ، ماہم اوردیگر علاقوں میں واقع بزرگان دین کے آستانوں پربھی عقیدت مندوں کی آمدکے پیش نظر انتظامات کئےجارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرسٹیان کی جانب سے مصلیان اورعقیدت مندوں سے حکومت کی ہدایات پرعمل کرنے اوران سے تعاون کی اپیل کی جارہی ہےتاکہ ضابطہ شکنی نہ ہواورنہ ہی کسی کو شکایت کاموقع مل سکے ۔
ممبئی کرافورڈ مارکٹ کے رہائشی قمر موٹیا نے بتایا کہ مساجد کے باہر کووڈ گائیڈلائن کی نوٹس چسپاں کی گئی ہیں اور مساجد میں امام صاحب کی طرف سے بھی اعلان کیا جارہا ہے کہ نمازی کووڈ گائیڈلائن پر عمل کرتے ہوئے عبادت کریں ۔انہوں نے بتایا کہ لمبے عرصے بعد مساجد کو کھولنے کی اجازت کے ساتھ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور مساجد میں لوگ سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے نماز میں شریک ہورہے ہیں۔